Islam has given forward its rules and for a Muslim to be successful in t...

juma tul mubarak ki fazilat in urdu

Juma tul Mubarak ki Fazilat in Urdu 
 یوم جمعہ کی اہمیت اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت سے ساری کائنات پیدا فرمائی اور ان میں سے بعض کو بعض پر فوقیت دی۔ سات دن بنائے ، اور جمعہ کے دن کو دیگر ایام پر فوقیت دی۔ جمعہ کے فضائل میں یہ بات خاص طور پر قابل ذکر ہے کہ ہفتہ کے تمام ایام میں صرف جمعہ کے نام سے ہی قرآن کریم میں سورہ نازل ہوئی ہے جس کی رہتی دنیا تک تلاوت ہوتی رہے گی، ان شاء اللہ۔یہودیوں نے ہفتہ کا دن پسند کیا جس میں مخلوق کی پیدائش شروع بھی نہیں ہوئی تھی، نصاری نے اتوار کو اختیار کیا، جس میں مخلوق کی پیدائش کی ابتدا ہوئی تھی۔ اور اِس امت کے لیے اللہ تعالیٰ نے جمعہ کو پسند فرمایا، جس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو پورا کیا تھا۔ صحیح بخاری کی حدیث میں ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: ہم دنیا میں آنے کے اعتبار سے تو سب سے پیچھے ہیں؛ لیکن قیامت کے دن سب سے پہلے ہوں گے۔مسلم کی روایت میں اتنا اور بھی ہے کہ قیامت کے دن تمام مخلوق میں سب سے پہلے فیصلہ ہمارے بارے میں ہوگا (ابن کثیر)۔ جمعہ کے دن کی اہمیت کے متعلق چند احادیث: رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جمعہ کا دن سارے دنوں کا سردار ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک جمعہ کا دن سارے دنوں میں سب سے زیادہ عظمت والا ہے۔ یہ دن اللہ تعالیٰ کے نزدیک عید الاضحی اور عید الفطر کے دن سے بھی زیادہ مرتبہ والا ہے۔ اس دن کی پانچ باتیں خاص ہیں : اس دن اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم علیہ السلام کو پیدا فرمایا۔ اِسی دن اُن کو زمین پر اتارا۔ اِسی دن اُن کو موت دی۔اِس دن میں ایک گھڑی ایسی ہے کہ بندہ اس میں جو چیز بھی مانگتا ہے اللہ تعالیٰ اس کو ضرور عطا فرماتے ہیں؛ بشرطیکہ کسی حرام چیز کا سوال نہ کرے۔اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ تمام مقرب فرشتے ، آسمان، زمین، ہوائیں، پہاڑ، سمندر سب جمعہ کے دن سے گھبراتے ہیں کہ کہیں قیامت قائم نہ ہوجائے؛ اس لیے کہ قیامت، جمعہ کے دن ہی آئے گی (ابن ماجہ)۔ ;ِ۔۔ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا: سورج کے طلوع وغروب والے دنوں میں کوئی بھی دن جمعہ کے دن سے افضل نہیں ،یعنی جمعہ کا دن تمام دنوں سے افضل ہے (صحیح ابن حبان)۔ رسول اللہ ﷺ نے ایک مرتبہ جمعہ کے دن ارشاد فرمایا : مسلمانو! اللہ تعالیٰ نے اِس دن کو تمہارے لیے عید کا دن بنایا ہے؛ لہٰذا اِس دن غسل کیا کرو اور مسواک کیا کرو ( مجمع الزوائد)۔ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ جمعہ کا دن ہفتہ کی عید ہے۔

Miswak Benefits

Miswak Benefits

مسواک کی فضیلت
رحمٰن کی خوشنودی ہے۔ مسواک کی نماز کا ثواب۔ 99/ گنا اور بعض کتابوں کے مطابق -/440/گنا تک بڑھ جاتا ہے۔ اس کا ہمیشہ کرنا وسعت رزق کا باعث ہے.  اسباب رزق کی سہولت کا۔باعث ہے۔  منہ کی  صفائی ہے۔  مسوڑھا مضبوط کرتی ہے۔ سر کے درد کو دور کرتی ہے۔   سر کی رگوں کے لئے مفید ہے۔  بلغم دور کرتی ہے۔  دانت مضبوط کرتی ہے۔  مالداری لا تی ہے۔  نگاہ تیز کرتی ہے۔  معدہ درست کرتی ہے۔  بدن کو طاقت پہنچاتی ہے۔ فصاحت وبلاغت پیدا کرتی ہے۔  یاد داشت بڑھاتی ہے۔ عقل کی زیادتی کا باعث ہے۔ دل کوصاف رکھتی ہے۔ نیکیوں کو زائد کرتی ہے۔ فرشتوں کو خوش رکھتی ہے۔ چہرے کے منور ہوجانے کی وجہ سے فرشتے مصافحہ کرتے ہیں۔ جب وہ نماز کو جاتا ہے تو فرشتے اس کے ساتھ چلتے ہیں۔ مسجد کی طرف جاتے وقت حاملین عرش فرشتے اس کے لئے استغفار کرتے ہیں۔ مسواک کرنے والے کو انبیاء وپیغمبر علیہم السلام کی دعاء واستغفار ملتی ہے۔ شیطان کو ناراض اور اسے دور کرنے والی ہے۔ ذہن کوصاف کرنے والی ہے۔  انا ہضم کرنے والی ہے۔ کثرت اولاد کا باعث ہے۔  پلصراط پر بجلی کی طرح گذارنے والی ہے۔  بڑھاپا دیر سے لاتی ہے نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دلاتی ہے۔ جسم کو عبادت الٰہی پر ابھارتی ہے۔ جسم کی گرمی کو دور کرتی ہے۔ بدن کے درد کو دور کرتی ہے۔ کمر یعنی پیٹھ مظبوط کرتی ہے۔ موت کے وقت کلمۂ شہادت یاد دلاتی ہے۔ روح کےنکلنے کو آسان کرتی ہے۔ دانتوں کو سفید کرتی ہے۔ منہ کو خوشگواربناتی ہے ذہن تیز کرتی ہے۔  اس سے قبر میں کشادگی ہوتی ہے ۔ قبر میں انس کا باعث ہے ۔ مسواک نہ کرنے کے برابر لوگوں کا ثواب ملتا ہے ۔  اس کے لئے جنت کے دروازے کھول دئیے جاتے  ہیں۔ فرشتے ان کی تعریف کرتے ہوے کہتے ہیں یہ لوگ انبیاء علیہم السلام کے نقش قدم پر چلنے والے ہیں ۔ اس پر جہنم کا دروازہ بند کردیا جاتا ہے۔  دنیا سے وہ پاک وصاف ہوکر جاتا ہے۔  فرشتے موت کے وقت اس طرح آتے ہیں جس طرح اولیاء کرام کے پاس آتے ہیں بعض عبارات میں ہے کہ انبیاء علہیم السلام کی طرح آتے ہیں۔  اس وقت تک دنیا سے اس کی روح نہیں نکلتی جب تک کہ وہ نبیﷺ کے حوض مبارک سے رحیق مختوم کا گھونٹ نہیں پی لیتا۔  منہ کی بدبو ختم کرتی ہے۔ بغل کی بدبو ختم کرتی ہے۔  جنت کے درجات بلند کرتی ہے۔  سنت کا ثواب ہے۔ ڈاڑھ کا درد دور ہوتا ہے۔ شیطان کے وسوسوں کو دور کرتی ہے۔ بھوک پیدا کرتی ہے۔ (جسم کی) رطوبت ختم کرتی ہے۔ مادۂ منویہ گاڑھا کرتی ہے۔ آواز خوبصورت کرتی ہے۔ پت کی تیزی کو بجھاتی ہے۔ زبان کے میل کو دور کرتی ہے۔ حلق صاف کرتی ہے۔ ضرورتوں کے پورا ہونے میں مددگار ہے۔ منہ میں خوشبو پیدا ہوتی ہے۔ درد کو سکون دیتی ہے۔ موت کے علاوہ ہر مرض سے شفاء ہے۔ جسم کا رنگ نکھارتی ہے۔ چہرے کو با رونق بناتی ہے۔ بال اُگاتی ہے۔  (مسواک کا عادی)جس دن مسواک نہ کرے اس دن بھی اجر لکھا جاتا ہے.
Miswak Benefits



Huzoor Nabi Akram (S.A.W)

Huzoor Nabi Akram (S.A.W)


حضور ہم سے روٹھ نہ جائیے

Huzoor-Nabi-Akram-S.A.W

دنیا کے معروضی حالات ہم سب کے سامنے ہیں ، کابل سے لیکر قندھار تک ، قلہ جنگی سے دشت لیلی تک ، تورا بورا سے تقریط تک ، موصل سے بغداد تک ، نیل سے کاشغر تک ، جاوا کے ساحل سے رباط کے کوچہ و بازار تک ، القدس سے کشمیر تک ، دیا آمو کے اس پار سے ڈھل جھیل کے کناروں تک ، جس سمت بھی نظر اٹھائیں خون ہی خون بہتا ہوا نظر آتا ہے ہم مسلمانوں کی تاریخ بڑی تابناک ہے ۔ بڑی روشن ہے مسلمانوں نے عزیمتوں کی داستان رقم کی ہیں ہم نے لٹے پٹے بغداد کی کہانی بھی پڑھی ، اندلس اور غرناطہ کی سرزمین پر مسلمانوں کے قتل عام کے قصہ بھی سنے ہیں لیکن ان دو تین عشروں میں جس انداز سے مسلمانوں کے ساتھ ظلم و جبر کی داستان رقم کی جارہی ہے یہ ایک انوکھا دلگداز اور روحوں کو چیر دینے والا ماحول ہے کہ ہر دل دکھ سے بھرا ہوا ہے ۔ ہمارے ساتھ کیا کیا ظلم نہیں ہوا اور کونسا دکھ ہے جو ہم نے نہیں سہا، ہمارے سروں سے بال نوچے گئے اور ان زخموں پر تیزاب چھڑک کر ہمیں دھوپ میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ ہماری شہ رگوں کو کاٹا گیا اور جب خون بہہ گیا تو شہ رگوں میں پیٹرول بھر کر نعشوں کو آگ لگا دی گی ۔ موصل و بغداد سے شعلہ اٹھ رہے ہیں ، شام کی گلیوں رقص ابلیس جاری ہے میرے اپنے وطن کی سرزمین لہو لہو ہے ان ناساز حالات میں اعصاب شل ہوگئے ہیں دل بجھ گئے ہیں بے ساختہ برسوں پہلے کہہ گئے حالی کے اشعار لبوں پر مچلنے لگتے ہیں۔ اے خصئہ خاصان دل وقت دعا ہے امت پہ تیری آگے عجب وقت آ پڑا ہے مجھے حذیفہ بن یمان رضہ یاد آرہے ہیں جب کفار کی سپر طاقت کی شاہی دربار میں کھانا کھاتے ہوئے ان کے ہاتھ سے لقمہ گرا انہوں نے حضور کی سنت اور تعلیم کے مطابق لقمہ اٹھا کر صاف کیا اور کھا لیا اس پر قریب بیٹھے ہوئے کسی شخص نے تنبیہ کی کہ گرے ہوئے لقمہ کو اٹھا کر کھانا دربار شاہی کے آداب طعام کے منافی ہے، تب حضرت حذیفہ بن یمان رضہ یہ ایمان افروز جملہ ارشاد فرمایا:” انترک سنۃ نبیـنا لھولاء الحمقاء“۔ ”کیا ہم اپنے نبی سرور دو عالم ﷺ کی سنت کو ان احمق قوموں کی تہذیب کی خاطر ترک کردیں“۔ مجھے وہ ابوذر غفاری یاد آرہے ہیں ، حضرت عمر رضہ کے زمانے میں ایک شخص سے قتل ہوگیا تھا اس اجنبی نے مدینۃ الرسول میں ضامن مانگا تھا کہ میرے پاس کچھ لوگوں کی امانتیں ہیں میں وہ لوٹا کر آجاؤں گا جب کوئی بھی کھڑا نہ ہوا تو ابوذر غفاری اس کے ضامن بنے تو کسی نے کہہ دیا اگر یہ اجنبی نہ آیا تو تمہاری گردن کٹ جائے گی۔ پھر ابوذر غفاری رضہ نے عشق رسول ﷺ میں ڈوب کر کہا تھا گردن کٹتی ہے تو بھلے کٹ جائے لیکن کوئی یہ کہنے والا تو نہیں ہوگا کہ مدینۃ الرسول میں مجھے ضامن نہیں ملا ، مجھے وہ سولی پر لٹکے حضرت خبیب یاد آرہے ہیں جن سے کفار نے کہا تھا کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمیں چھوڑ دیں اور تمہارے جگہ محمد ﷺ کو پھانسی دے دیں جواباً انہوں نے کہا میں تو اس بات کو بھی نہیں کرتا کہ تم مجھے چھوڑ دو اور میرے محبوب ﷺ کو ایک کانٹا بھی چبھے۔مجھے وہ صحابی رسول یاد آرہے ہیں جنہوں نے صرف سر کی مانگ اپنے آقا جیسی بنانے کے لیے لوہے کی گرم سلاخ سے اپنے سر کو داغا تھا۔مجھے اس صحابی رسول کی بے چینی یاد آرہی ہے جن کے دل میں یہ خیال آگیا تھا کہ حضور اکرم ﷺ تو جنت کے بلند درجوں پر ہونگے اور اگر مجھے جنت مل گئی تو میں نچلے درجوں میں ہونگا ، بھلا ایسی جنت کا کیا مزہ جس میں محبوب کا دیدار ہی نہ ہو اپنی اس پریشانی کا ذکر حضور اکرم ﷺ سے کیا اور تسلی تب ہوئی جب المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ سنا۔اسلام کی سنہری تاریخ عشق رسول ﷺ کے درخشاہ واقعات سے بھری ہوئی ہے جو صرف دعوے نہیں بلکہ اپنے عمل سے عشق رسول سمجھاگئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے نبی کے ساتھ کیا کیا ہے۔پیر و مرشد نے کہا تھا کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں لیکن افسوس ہم نے اپنے نبی ﷺ سے وفاداری نہیں کی ، ہمیں اپنے نبی سے بے وفائی کی سزا مل رہی ہے ، ہماری جس نگاہ سے دل کانپ اٹھتے تھے اس جذب قلندرانہ کو اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے ہمیں عشق کی اس قوت کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس سے ہم پستی کو بلندی میں بدل سکیں ۔ آئیں ہم سب مل کر اپنے آقا سے عہد کریں ، حضور ہم سے روٹھ نہ جائیے ، ہم نے غلطیاں کیں ، ہم نے زیادتیاں کیں ، ہم نے آپ کے دشمنوں جیسی شکلیں بنائیں ، ہم نے آپ کی مبارک سنت کو کاٹ کر نالیوں میں بہایا ، ہم نے فیسٹول کے نام پر بے حیائی پھیلائی ، ہم نے مخلوط تعلیم کے نام پر محرم و غیر محرم کا فرق مٹادیا۔ حضور ہمیں اقرار ہے ، سو دفعہ اقرار ہے ، ہم خانما برباد لوگوں کو معاف کر دیجئے یہ صدائے دلنواز ہے گنہگاروں کے کریم آقا ہمیں معاف کردیں ، ماضی کی خطاؤں سے درگزر کر دیجئے ۔حضور ہم سر لیکر پاؤں تک اس عہد کے ساتھ حاضر ہیں ۔ آئندہ زندگی کی ایک ایک سانس آپ کے نام ہوگی ،حضور ہم حاضر ہیں ہم جیئں گے تو آپ کے لیے ، مریں گے تو آپ کے لیے۔

Jannat Ke Haseen Manazir

Jannat Ke Haseen Manazir
 جنت کی نعمتیںسید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰﷺ سے ہماری ماں ، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ ،ام المؤمنین حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا کہ ” اے اللہ کے رسول ﷺ! جنت میں ہم مسلمان بیویاں زیادہ خوبصورت ہوں گی یا حوریں زیادہ حسین ہوں گی؟ دیکھو ! کیسا پیارا سوال ہے ۔ یہ سوال قیامت تک کی خواتین پر بڑا احسان ہے کیونکہ عورتیں سوچتی ہیں کہ جب ان مردوں کو حوریں مل جائیں گی تو جب یہ مرد یہاں بندر روڈ ، صدر اور ایمپریس مارکیٹ سے گھر آتے ہیں تو ہماری طرف دیکھتے بھی نہیں کیونکہ کافی دیر تک ان کے دماغ پر انہی عورتوں کا نشہ چڑھا رہتا ہے جو سڑکوں پر بے پردہ پھر رہی ہیں ۔حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی عورتوں پر لعنت کرے جو بے پردہ پھرتی ہیں اور ان کو دیکھنے والوں پر بھی اللہ کی لعنت ہے ، دونوں پر لعنت ہے ۔ لعنت کے معنیٰ ہیں اللہ کی رحمت سے دوری ، جو چہرے اللہ کی رحمت سے دور ہیں ، ان کے دل کہاں اللہ کی رحمت سے قریب ہوں گے تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کتنا عمدہ سوال کیا کہ جب جنت میں یہ مرد حوریں پاجائیں گے تو جن کا دنیا میں یہ حال ہے کہ زیادہ حسین عورت کو دیکھ کراپنی بیوی کی قدر نہیں کرتے تو وہاں ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔میرے ایک دوست بڑے رئیس ، نواب اور بڑے زمیندار تھے، ان کے ہاں اولاد نہیں ہوئی تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر اجازت ہو تو میں دوسری شادی کرلوں شایداس سے مجھے اولاد مل جائے ، یہ دونوں میاں بیوی میرے شیخ حضرت شاہ عبدالغنی پھولپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے ، تو بیوی نے کہا ایک شرط ہے ، آپ بیشک دوسری شادی کرلیں کیونکہ مجھے اولاد نہیں ہوئی ، مجھے خوشی ہوگی کہ اللہ آپ کو اولاد دے دے لیکن میری ایک شرط ہے کہ وہ دوسری بیوی مجھ سے زیادہ حسین نہ ہو ، اس نے پوچھا کہ کیوں ؟ کہنے لگی کہ پھر تو تم مجھے ٹیڑی نظر سے بھی نہیں دیکھو گے ، دیکھا آپ نے عورتوں کی غیرت!لہذا اللہ تعالیٰ ہماری ماں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔<علامہ آلوسی السید محمود بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر روح المعانی میں اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہانے اللہ کے نبی ﷺ سے پوچھا کہ جنت میں ہماری یہ مسلمان عورتیں حسین ہوں گی یا حوریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا سے سلمہ! جنت میں عورتیں حوروں سے زیادہ حسین کردی جائیں گی ۔ لیجئے صاحب اور کیا چاہیے ، آپ کیوں ان کو بھنگن سمجھ رہے ہیں یہ ناک نقشہ کی ٹیڑ ی جیسی بھی ہیں ، ان کے ساتھ ہنسی خوشی بسر کرلو ۔ جیسے لڈو ٹیڑھے ، میڑے بھی اچھے ہوتے ہیں اور ان سے اللہ نے اولاد دی ہے ، اگر کوئی بچہ قیامت کے دن آپ کی سفارش کردے تو کام بن گیا ، کتنی عورتیں ایسی ہیں جن کے چھوٹے بچے مرچکے ہیں، حدیث پاک میں ہے۔جن کا بچہ بالغ ہونے سے پہلے یا پیدا ہونے سے پہلے انتقال کرجائے ایسے بچے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے جھگڑا کریں گے کہ اے اللہ ہمارے ماں باپ کو جنت میں داخل کرو ، ہم انہیں دوزخ میں جانے نہیں دیں گے اور اللہ میاں کو ان کا جھگڑا پسند آئے گا ، تو ایسی خواتین جن کے ایک ، دو بچے انتقال کرگئے وہ ماں باپ کی بخشش کا سہارا بنیں گے ۔ اگر یہ بیبیاں نہ ہوتیں تو یہ سہارے کہاں سے ملتے ؟ اور اگر کسی کا بچہ حافظ ہو گیا تو اپنے خاندان کے دس ایسے افراد کو بخشوائے گا جن کے لئے دوزخ کا فیصلہ ہوجائے گا ، اللہ تعالیٰ خود اجازت دیں گے کہ اے حافظ قرآن تو اپنے خاندان والوں میں سے دس افراد جن کا میں نے جہنم کا فیصلہ کیا ہے ان کا انتخاب کرکے ان کو جنت میں لے جا تو آپ بھی اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنائیے۔

امت مسلمہ کا قبلہ اول بیت المقدس


امت مسلمہ کا قبلہ اول بیت المقدس

پاک گھر ، امت مسلمہ کا قبلہ اول ، یروشلم اور اس کی عبادت گاہ جس کی بنیاد حضرت داؤد علیہ السلام نے رکھی ، اور تکمیل حضرت سلیمان علیہ السلام نے کی ۔عام طور پر شہر یروشلم کو بھی بیت المقدس ہی کہا جاتا ہے ۔ یہ ان شہروں میں سے ایک ہے جنہیں نوع انسانی عزت و احترام کی نگاہ سے دیکھتی ہے ۔ جس کا ذرہ ذرہ مقدس ہے ۔ اکثر انبیاء اسی شہر میں مبعوث ہوئے۔ یہ شہر مسلمانوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کے لئے یکساں متبرک ہے۔ آنحضور ﷺ کے بعد صحابہ کرام کو ساتھ لے کر سترہ ماہ تک اسی طرف رخ کرکے نماز پڑھتے رہے۔ جب آپ ﷺ معراج کے لئے گئے تو یہی مقام آپ ﷺ کی پہلی منزل بنا ۔ اسی مقام پر آنحضور ﷺ نے سابق انبیا ء کرام کی امامت کرائی ۔ یہاں حضرت داؤد علیہ سلام ، حضرت سلیمان علیہ سلام اور کئی دوسرے انبیاء کے مقابر ہیں حضرت داؤد علیہ سلام نے شہر مقدس پر 33 سال حکومت کی ۔ اس تمام عرصے میں  اسرائیلی فوجوں کو سکوں بہت کم ملا۔ البتہ ان جنگوں کا نتیجہ بنی اسرائیل کے حق میں اس لئے بہت زیادہ مفید رہا کہ بنی اسرائیل جو قبائلی عصبیت کا شکار تھے۔ 

مختلف قبیلوں میں بٹے ہوئے تھے ۔ ایک قوم بن گئے تھے۔ حضرت داؤد علیہ سلام کی دلی خواہش تھی کہ وہ ایک معبد بنائیں لیکن اسرائیلی روایات کے مطابق انہیں خواب میں بتایا گیا کہ اللہ تعالیٰ کا مستقل گھر ان کے بیٹے کے عہد میں تعمیر ہوگا۔ چنانچہ حضرت سلیمان علیہ سلام نے تخت نشین ہونے کے بعد اس معبد کی تعمیر شروع کرائی۔ یہ عمارت اسی جگہ تعمیر ہوئی جسے داؤد علیہ سلام نے منتخب کیا تھا۔ اس عمارت کی تعمیر سات سال تک مسلسل جاری رہی اور دو لاکھ افراد اس کی تعمیر میں مصروف رہے ۔ بعد میں یہ عمارت ہیکل سلیمانی کے نام سے مشہور ہوئی۔ ہیکل سلیمانی فن تعمیر کا ایک شاہکار تھا ۔ جس کی لمبائی 90 فٹ ، چوڑائی 30 فٹ ، اور اونچائی 45 فٹ تھی ۔ اس کے اندر پاک ترین جگہ بنائی گئی ۔ جہاں تابوت سکینہ رکھا گیا ۔ حضرت سلیمان علیہ سلام کی وفات کے بعد بنی اسرائیل کی ریاست دو حصوں میں بٹ گئی ۔ اس کے ساتھ ہی بنی اسرائیل عیاشی میں مبتلا ہوگئی اور انہوں نے ایک اللہ کو چھوڑ کر بتوں کی پوجا کرنی شروع کردی۔

رجحان بن سلیمان علیہ سلام کو تخت پر بیٹھے پانچ سال ہوئے تھےکہ شاق نے یروشلم کی طرف پیشقدمی کی اور بغیر مزاحمت کے شہر میں داخل ہوگیا۔ وہ ہیکل سلیمانی اور عبادت گاہ کی تمام قیمتی چیزیں شاہی خزانوں کے ساتھ لوٹ کرلے گیا۔ حزقیاہ نے اپنے دور میں ہیکل سلیمانی کی عظمت کو بحال کیا ۔ یہود کی پہلی قوم تباہی و بربادی بخت نصر کے ہاتھوں میں ہوئی۔ اس تباہی میں نہ صرف ہیکل سلیمانی کا نام و نشان مٹ گیا بلکہ دیگر صحائف کے ساتھ ساتھ تورات بھی غائب ہوگئی ۔ بخت نصر کے اس حملے کے بعد تابوت سکینہ ایسا غائب ہوا کہ آج تک اس کا سراغ نہیں لگایا جاسکا۔ 539ق م میں ایران کے پہلے کسریٰ نے بابل کو فتح کیا تو اس نے یہودیوں کو اپنے وطن واپس جانے کی اجازت دے دی ۔ چنانچہ جب یہودی یروشلم واپس آئے تو انہوں نے یشوع بن یوصدیق اور زرد بابل بن سالتی ایل کی قیادت میں ہیکل سلیمانی کی تعمیر دوبارہ شروع کی ۔ 516 ق م میں یہ تعمیر مکمل ہوئی۔ 63 ق م میں رومی جنرل پومسپائی کا محاصرہ کرکے ہیکل کو دوبارہ تباہ کردیا ۔ لیکن ہیروداعظم کے دور میں ، جو رومی شہنشاہ کےباجگزار کی حیثیت سےیہاں کا بادشاہ بنا۔

بیت المقدس نے دوبارہ سلیمان علیہ سلام کی عہد میں عظمت حاصل کرلی۔ اس بادشاہ نے ہیکل سلیمانی کو ازسر نو عظمت بخشی۔ بقول کیپٹن وارن ہیرودکے وسیع کردہ ہیکل کا رقبہ تقریباً ایک ہزار فٹ تھا اور شان و شوکت میں سلیمان علیہ سلام کے تعمیر کردہ ہیکل سے کسی طرح ہیکل کم نہ تھا۔ 70ء میں جب رومی شہنشاہ ، طیطس شہر میں داخل ہوا اور رومی سپاہی یہودیوں کا تعاقب کرتے ہوے ہیکل کے اندرونی صحن میں داخل ہوئے تو ایک یہودی نے جلتی ہوئی مشعل ہیکل کے اندر پھینک دی جس سے ہیکل میں آگ بھڑک اٹھی اور یہ جل کر راکھ ہوگیا۔ اس مرتبہ ہیکل کی تباہی خود یہودیوں کے ہاتھوں ہوئی۔

135ء میں جب دوبارہ معبد ( ہیکل ) تیار ہوا تو رومیوں نے اسے گراکر اس کی جگہ ہل چلادیئے۔ 136ء میں رومی شہنشاہ ہیڈرین نے اسے دوبارہ آباد کیا۔ اور شہر کا نام پہلے ایلیا اور پھر کیسی ٹولینا قرار دیا۔ اس بات کو فرنگی مؤرخین اور ماہرین آثار قدیمہ تسلیم کرتے ہیں کہ ہیرود کا تعمیر کردہ ہیکل تباہ ہوجانے کے بعد صدیوں تک اس جگہ پر ملبے اور غلاظت کے ڈھیر پڑے رہے ۔یہودیوں سے لوگ نفرت کی بناء پر لوگ کوڑا کرکٹ اسی جگہ پھینکتے تھے۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں جب مسلمانوں نے بیت المقدس فتح کیا تو اس وقت یہاں یہودیوں کا کوئی معبد نہ تھا۔ بلکہ کھنڈر پڑے ہوئے تھے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم سے ان کھنڈرات پر ایک مسجد کی تعمیر ہوئی ۔ ایک قدیم سیاح آرکلف نے بھی ایک سادہ مسجد کا ذکر کیا ہے ۔ جو 670ء میں مقدس مقامات کی زیارت کے لئے بیت المقدس بھی آیا تھا۔

تقریباً اس سادہ سی تعمیر کے پچاس سال بعد اموی خلیفہ عبدالملک بن مردان نے 72ھ /290ء میں مسجد اقصیٰ اور قبتہ الصخرہ کی بنیاد اٹھائی۔ یہ خلیفہ قبتہ الصخرہ کی تعمیر ہی مکمل کرسکا۔ مسجد اقصیٰ کی تعمیر کا کام جو ادھوراہ رہ گیا تھا ، ولید بن عبدالملک نے مکمل کرایا۔ وہ مقدس مقامات جن کی بدولت یہ مقدس شہر مسلمانوں ، عیسائیوں اور یہودیوں کی عقیدتوں کا مرکز ہے۔ اکثر و بیشتر شہر کی مشرق پہاڑی پر ایک احاطہ میں ہیں جس کو مسلمان حرم شریف اور یہودی بیت لحم کے نام سے پکارتے ہیں ۔ یہ بیت المقدس کا مقدس ترین حصہ ہے۔ ڈاکٹر برکلے کے بیان کے مطابق حرم شریف 35 ایکڑ پر مشتمل ہے۔ مسجد اقصیٰ اور قبتہ الصخرہ اسی حرم میں ہیں ۔ حرم میں جگہ جگہ بلند مقامات ہیں ۔ جنہیں مسلمان محراب کہتے ہیں اور ان کے سامنے نوافل ادا کرتے ہیں۔ حرم شریف میں چار حوض وضو کے لئے اور پانچ منبر واعظین کے لئے ہیں۔ مستورات کے لئے تین مقصورے ہیں ۔ اندرونی و بیرونی دروازوں کی تعداد پچاس ہے۔ 1967ء میں حرف شریف کا طول 1200 گز عرض 600 گز اور دروازے چودہ بتاے ہیں ۔ احاطہ حرم کے اندر جو زیارتیں ہیں ان میں مسجد اقصیٰ اور قبتہ الصخرہ کے علاوہ اور بھی عمارات ہیں۔  

ماں کی بد دعا

ماں کی بد دعا
ڈاکٹر نور محمد صاحب ایک واقعہ بیان کرتے ہیں ، میرے وارڈ میں ایک نوجوان گردے فیل ہونے کی وجہ سے مرا ۔ تین دن تک حالت نزع میں رہا ، اتنی بُری موت مرا کہ آج تک ایسی موت میں نے پچھلے چالیس سال کے عرصے میں نہیں دیکھی۔ اس کا منہ نیلا ہوجاتا تھا ، آنکھیں نکل آتی تھی اور منہ سے دردناک آوازیں نکلتی تھی ۔ جیسے کوئی اس کا گلا دبا رہا ہو۔ مرنے سے ایک دن پہلے یہ کیفیت زیادہ ہوگئی ، آواز زیادہ تیز ہوگئی اور وارڈ سے دوسرے مریض بھاگنا شروع ہوگئے  چنانچہ اس کو وارڈ سے دور ایک کمرے میں منتقل کردیا گیا تاکہ آواز کم ہوجائے ، مگر پھر بھی یہ حالت جاری رہی۔  اس کا والد مجھ سے یہ کہنے کے لئے آیا کہ اس کو زہر کا ٹیکہ لگادیں تاکہ مرجائے ، ہم سے ایسی حالت نہیں دیکھی جاتی میں نے اس کے والد سے پوچھا کہ اس نے کیا خاص غلطی کی ہے؟ اس کا والد فوراً بول اٹھا: ” یہ شخص اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لئے ماں کو مارا کرتا تھااور میں اس کو بہت روکا کرتا تھا۔ یہ بُری موت اُسی کا نتیجہ ہے ۔ فائدہ:  ” کسی کو کبھی ستانا ، تکلیف پہنچانا ، ظلم کرنا بہت بُری بات ہے، حدیث شریف میں آتا ہے، ترجمہ: ” ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔“  خصوصاً والدہ پر ظلم کرنا یہ تو بہت ہی بُری بات ہے کہ انسان بیوی کی بات سُن کر والدہ پر ظلم کرے ، یہ انتہائی خطرناک غلطیوں میں سے ہے ، ایسی غلطی کہ جس کے بعد انسان کو اپنی غلطی کی اصلاح کا موقعہ بھی مشکل سے ملتا ہے ، لہذا کبھی بھی والدہ محترمہ سے بے ادبی سے پیش نہ آنا چاہیے اور نہ ہی ظلم کرے۔ large;">اللہ تعالیٰ ہم سب کی مکمل حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنے والدین خصوصاً والدہ کے ساتھ احسان کرنے والا بنائے ، آمین۔