Huzoor Nabi Akram (S.A.W)

Huzoor Nabi Akram (S.A.W)


حضور ہم سے روٹھ نہ جائیے

Huzoor-Nabi-Akram-S.A.W

دنیا کے معروضی حالات ہم سب کے سامنے ہیں ، کابل سے لیکر قندھار تک ، قلہ جنگی سے دشت لیلی تک ، تورا بورا سے تقریط تک ، موصل سے بغداد تک ، نیل سے کاشغر تک ، جاوا کے ساحل سے رباط کے کوچہ و بازار تک ، القدس سے کشمیر تک ، دیا آمو کے اس پار سے ڈھل جھیل کے کناروں تک ، جس سمت بھی نظر اٹھائیں خون ہی خون بہتا ہوا نظر آتا ہے ہم مسلمانوں کی تاریخ بڑی تابناک ہے ۔ بڑی روشن ہے مسلمانوں نے عزیمتوں کی داستان رقم کی ہیں ہم نے لٹے پٹے بغداد کی کہانی بھی پڑھی ، اندلس اور غرناطہ کی سرزمین پر مسلمانوں کے قتل عام کے قصہ بھی سنے ہیں لیکن ان دو تین عشروں میں جس انداز سے مسلمانوں کے ساتھ ظلم و جبر کی داستان رقم کی جارہی ہے یہ ایک انوکھا دلگداز اور روحوں کو چیر دینے والا ماحول ہے کہ ہر دل دکھ سے بھرا ہوا ہے ۔ ہمارے ساتھ کیا کیا ظلم نہیں ہوا اور کونسا دکھ ہے جو ہم نے نہیں سہا، ہمارے سروں سے بال نوچے گئے اور ان زخموں پر تیزاب چھڑک کر ہمیں دھوپ میں مرنے کے لیے چھوڑ دیا گیا۔ ہماری شہ رگوں کو کاٹا گیا اور جب خون بہہ گیا تو شہ رگوں میں پیٹرول بھر کر نعشوں کو آگ لگا دی گی ۔ موصل و بغداد سے شعلہ اٹھ رہے ہیں ، شام کی گلیوں رقص ابلیس جاری ہے میرے اپنے وطن کی سرزمین لہو لہو ہے ان ناساز حالات میں اعصاب شل ہوگئے ہیں دل بجھ گئے ہیں بے ساختہ برسوں پہلے کہہ گئے حالی کے اشعار لبوں پر مچلنے لگتے ہیں۔ اے خصئہ خاصان دل وقت دعا ہے امت پہ تیری آگے عجب وقت آ پڑا ہے مجھے حذیفہ بن یمان رضہ یاد آرہے ہیں جب کفار کی سپر طاقت کی شاہی دربار میں کھانا کھاتے ہوئے ان کے ہاتھ سے لقمہ گرا انہوں نے حضور کی سنت اور تعلیم کے مطابق لقمہ اٹھا کر صاف کیا اور کھا لیا اس پر قریب بیٹھے ہوئے کسی شخص نے تنبیہ کی کہ گرے ہوئے لقمہ کو اٹھا کر کھانا دربار شاہی کے آداب طعام کے منافی ہے، تب حضرت حذیفہ بن یمان رضہ یہ ایمان افروز جملہ ارشاد فرمایا:” انترک سنۃ نبیـنا لھولاء الحمقاء“۔ ”کیا ہم اپنے نبی سرور دو عالم ﷺ کی سنت کو ان احمق قوموں کی تہذیب کی خاطر ترک کردیں“۔ مجھے وہ ابوذر غفاری یاد آرہے ہیں ، حضرت عمر رضہ کے زمانے میں ایک شخص سے قتل ہوگیا تھا اس اجنبی نے مدینۃ الرسول میں ضامن مانگا تھا کہ میرے پاس کچھ لوگوں کی امانتیں ہیں میں وہ لوٹا کر آجاؤں گا جب کوئی بھی کھڑا نہ ہوا تو ابوذر غفاری اس کے ضامن بنے تو کسی نے کہہ دیا اگر یہ اجنبی نہ آیا تو تمہاری گردن کٹ جائے گی۔ پھر ابوذر غفاری رضہ نے عشق رسول ﷺ میں ڈوب کر کہا تھا گردن کٹتی ہے تو بھلے کٹ جائے لیکن کوئی یہ کہنے والا تو نہیں ہوگا کہ مدینۃ الرسول میں مجھے ضامن نہیں ملا ، مجھے وہ سولی پر لٹکے حضرت خبیب یاد آرہے ہیں جن سے کفار نے کہا تھا کیا تم اس بات کو پسند کرتے ہو کہ تمیں چھوڑ دیں اور تمہارے جگہ محمد ﷺ کو پھانسی دے دیں جواباً انہوں نے کہا میں تو اس بات کو بھی نہیں کرتا کہ تم مجھے چھوڑ دو اور میرے محبوب ﷺ کو ایک کانٹا بھی چبھے۔مجھے وہ صحابی رسول یاد آرہے ہیں جنہوں نے صرف سر کی مانگ اپنے آقا جیسی بنانے کے لیے لوہے کی گرم سلاخ سے اپنے سر کو داغا تھا۔مجھے اس صحابی رسول کی بے چینی یاد آرہی ہے جن کے دل میں یہ خیال آگیا تھا کہ حضور اکرم ﷺ تو جنت کے بلند درجوں پر ہونگے اور اگر مجھے جنت مل گئی تو میں نچلے درجوں میں ہونگا ، بھلا ایسی جنت کا کیا مزہ جس میں محبوب کا دیدار ہی نہ ہو اپنی اس پریشانی کا ذکر حضور اکرم ﷺ سے کیا اور تسلی تب ہوئی جب المَرْءُ مَعَ مَنْ أَحَبَّ سنا۔اسلام کی سنہری تاریخ عشق رسول ﷺ کے درخشاہ واقعات سے بھری ہوئی ہے جو صرف دعوے نہیں بلکہ اپنے عمل سے عشق رسول سمجھاگئے سوچنے کی بات یہ ہے کہ ہم نے اپنے نبی کے ساتھ کیا کیا ہے۔پیر و مرشد نے کہا تھا کی محمد سے وفا تو نے تو ہم تیرے ہیں یہ جہاں چیز ہے کیا لوح و قلم تیرے ہیں لیکن افسوس ہم نے اپنے نبی ﷺ سے وفاداری نہیں کی ، ہمیں اپنے نبی سے بے وفائی کی سزا مل رہی ہے ، ہماری جس نگاہ سے دل کانپ اٹھتے تھے اس جذب قلندرانہ کو اپنے اندر پیدا کرنے کی ضرورت ہے ہمیں عشق کی اس قوت کو پیدا کرنے کی ضرورت ہے جس سے ہم پستی کو بلندی میں بدل سکیں ۔ آئیں ہم سب مل کر اپنے آقا سے عہد کریں ، حضور ہم سے روٹھ نہ جائیے ، ہم نے غلطیاں کیں ، ہم نے زیادتیاں کیں ، ہم نے آپ کے دشمنوں جیسی شکلیں بنائیں ، ہم نے آپ کی مبارک سنت کو کاٹ کر نالیوں میں بہایا ، ہم نے فیسٹول کے نام پر بے حیائی پھیلائی ، ہم نے مخلوط تعلیم کے نام پر محرم و غیر محرم کا فرق مٹادیا۔ حضور ہمیں اقرار ہے ، سو دفعہ اقرار ہے ، ہم خانما برباد لوگوں کو معاف کر دیجئے یہ صدائے دلنواز ہے گنہگاروں کے کریم آقا ہمیں معاف کردیں ، ماضی کی خطاؤں سے درگزر کر دیجئے ۔حضور ہم سر لیکر پاؤں تک اس عہد کے ساتھ حاضر ہیں ۔ آئندہ زندگی کی ایک ایک سانس آپ کے نام ہوگی ،حضور ہم حاضر ہیں ہم جیئں گے تو آپ کے لیے ، مریں گے تو آپ کے لیے۔