Jannat Ke Haseen Manazir

Jannat Ke Haseen Manazir
 جنت کی نعمتیںسید الانبیاء حضرت محمد مصطفیٰﷺ سے ہماری ماں ، رسول اللہ ﷺ کی زوجہ ،ام المؤمنین حضرت سلمہ رضی اللہ عنہا نے سوال کیا کہ ” اے اللہ کے رسول ﷺ! جنت میں ہم مسلمان بیویاں زیادہ خوبصورت ہوں گی یا حوریں زیادہ حسین ہوں گی؟ دیکھو ! کیسا پیارا سوال ہے ۔ یہ سوال قیامت تک کی خواتین پر بڑا احسان ہے کیونکہ عورتیں سوچتی ہیں کہ جب ان مردوں کو حوریں مل جائیں گی تو جب یہ مرد یہاں بندر روڈ ، صدر اور ایمپریس مارکیٹ سے گھر آتے ہیں تو ہماری طرف دیکھتے بھی نہیں کیونکہ کافی دیر تک ان کے دماغ پر انہی عورتوں کا نشہ چڑھا رہتا ہے جو سڑکوں پر بے پردہ پھر رہی ہیں ۔حدیث شریف میں ہے کہ اللہ تعالیٰ ایسی عورتوں پر لعنت کرے جو بے پردہ پھرتی ہیں اور ان کو دیکھنے والوں پر بھی اللہ کی لعنت ہے ، دونوں پر لعنت ہے ۔ لعنت کے معنیٰ ہیں اللہ کی رحمت سے دوری ، جو چہرے اللہ کی رحمت سے دور ہیں ، ان کے دل کہاں اللہ کی رحمت سے قریب ہوں گے تو حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے کتنا عمدہ سوال کیا کہ جب جنت میں یہ مرد حوریں پاجائیں گے تو جن کا دنیا میں یہ حال ہے کہ زیادہ حسین عورت کو دیکھ کراپنی بیوی کی قدر نہیں کرتے تو وہاں ہمارے ساتھ کیا سلوک کریں گے۔میرے ایک دوست بڑے رئیس ، نواب اور بڑے زمیندار تھے، ان کے ہاں اولاد نہیں ہوئی تو انہوں نے اپنی بیوی سے کہا کہ اگر اجازت ہو تو میں دوسری شادی کرلوں شایداس سے مجھے اولاد مل جائے ، یہ دونوں میاں بیوی میرے شیخ حضرت شاہ عبدالغنی پھولپوری صاحب رحمۃ اللہ علیہ سے بیعت تھے ، تو بیوی نے کہا ایک شرط ہے ، آپ بیشک دوسری شادی کرلیں کیونکہ مجھے اولاد نہیں ہوئی ، مجھے خوشی ہوگی کہ اللہ آپ کو اولاد دے دے لیکن میری ایک شرط ہے کہ وہ دوسری بیوی مجھ سے زیادہ حسین نہ ہو ، اس نے پوچھا کہ کیوں ؟ کہنے لگی کہ پھر تو تم مجھے ٹیڑی نظر سے بھی نہیں دیکھو گے ، دیکھا آپ نے عورتوں کی غیرت!لہذا اللہ تعالیٰ ہماری ماں حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا پر بے شمار رحمتیں نازل فرمائے۔<علامہ آلوسی السید محمود بغدادی رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر روح المعانی میں اس حدیث کو نقل کیا ہے کہ حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہانے اللہ کے نبی ﷺ سے پوچھا کہ جنت میں ہماری یہ مسلمان عورتیں حسین ہوں گی یا حوریں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا سے سلمہ! جنت میں عورتیں حوروں سے زیادہ حسین کردی جائیں گی ۔ لیجئے صاحب اور کیا چاہیے ، آپ کیوں ان کو بھنگن سمجھ رہے ہیں یہ ناک نقشہ کی ٹیڑ ی جیسی بھی ہیں ، ان کے ساتھ ہنسی خوشی بسر کرلو ۔ جیسے لڈو ٹیڑھے ، میڑے بھی اچھے ہوتے ہیں اور ان سے اللہ نے اولاد دی ہے ، اگر کوئی بچہ قیامت کے دن آپ کی سفارش کردے تو کام بن گیا ، کتنی عورتیں ایسی ہیں جن کے چھوٹے بچے مرچکے ہیں، حدیث پاک میں ہے۔جن کا بچہ بالغ ہونے سے پہلے یا پیدا ہونے سے پہلے انتقال کرجائے ایسے بچے قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے جھگڑا کریں گے کہ اے اللہ ہمارے ماں باپ کو جنت میں داخل کرو ، ہم انہیں دوزخ میں جانے نہیں دیں گے اور اللہ میاں کو ان کا جھگڑا پسند آئے گا ، تو ایسی خواتین جن کے ایک ، دو بچے انتقال کرگئے وہ ماں باپ کی بخشش کا سہارا بنیں گے ۔ اگر یہ بیبیاں نہ ہوتیں تو یہ سہارے کہاں سے ملتے ؟ اور اگر کسی کا بچہ حافظ ہو گیا تو اپنے خاندان کے دس ایسے افراد کو بخشوائے گا جن کے لئے دوزخ کا فیصلہ ہوجائے گا ، اللہ تعالیٰ خود اجازت دیں گے کہ اے حافظ قرآن تو اپنے خاندان والوں میں سے دس افراد جن کا میں نے جہنم کا فیصلہ کیا ہے ان کا انتخاب کرکے ان کو جنت میں لے جا تو آپ بھی اپنے بچوں کو حافظ قرآن بنائیے۔