ماں کی بد دعا

ماں کی بد دعا
ڈاکٹر نور محمد صاحب ایک واقعہ بیان کرتے ہیں ، میرے وارڈ میں ایک نوجوان گردے فیل ہونے کی وجہ سے مرا ۔ تین دن تک حالت نزع میں رہا ، اتنی بُری موت مرا کہ آج تک ایسی موت میں نے پچھلے چالیس سال کے عرصے میں نہیں دیکھی۔ اس کا منہ نیلا ہوجاتا تھا ، آنکھیں نکل آتی تھی اور منہ سے دردناک آوازیں نکلتی تھی ۔ جیسے کوئی اس کا گلا دبا رہا ہو۔ مرنے سے ایک دن پہلے یہ کیفیت زیادہ ہوگئی ، آواز زیادہ تیز ہوگئی اور وارڈ سے دوسرے مریض بھاگنا شروع ہوگئے  چنانچہ اس کو وارڈ سے دور ایک کمرے میں منتقل کردیا گیا تاکہ آواز کم ہوجائے ، مگر پھر بھی یہ حالت جاری رہی۔  اس کا والد مجھ سے یہ کہنے کے لئے آیا کہ اس کو زہر کا ٹیکہ لگادیں تاکہ مرجائے ، ہم سے ایسی حالت نہیں دیکھی جاتی میں نے اس کے والد سے پوچھا کہ اس نے کیا خاص غلطی کی ہے؟ اس کا والد فوراً بول اٹھا: ” یہ شخص اپنی بیوی کو خوش کرنے کے لئے ماں کو مارا کرتا تھااور میں اس کو بہت روکا کرتا تھا۔ یہ بُری موت اُسی کا نتیجہ ہے ۔ فائدہ:  ” کسی کو کبھی ستانا ، تکلیف پہنچانا ، ظلم کرنا بہت بُری بات ہے، حدیث شریف میں آتا ہے، ترجمہ: ” ظلم قیامت کے دن اندھیروں کی صورت میں ہوگا۔“  خصوصاً والدہ پر ظلم کرنا یہ تو بہت ہی بُری بات ہے کہ انسان بیوی کی بات سُن کر والدہ پر ظلم کرے ، یہ انتہائی خطرناک غلطیوں میں سے ہے ، ایسی غلطی کہ جس کے بعد انسان کو اپنی غلطی کی اصلاح کا موقعہ بھی مشکل سے ملتا ہے ، لہذا کبھی بھی والدہ محترمہ سے بے ادبی سے پیش نہ آنا چاہیے اور نہ ہی ظلم کرے۔ large;">اللہ تعالیٰ ہم سب کی مکمل حفاظت فرمائے اور ہمیں اپنے والدین خصوصاً والدہ کے ساتھ احسان کرنے والا بنائے ، آمین۔